اس اجلاس کے موقع پرایران، ترکی اوربرازیل کے درمیان ایٹمی ایندھن کے تبادلے کے فارمولے پر سمجھوتے اور جاری شدہ اعلامیہ نے تو اس اجلاس کی اہمیت کو اور بھی دوچنداں کردیاہے۔ اسی لئے ونزوئیلا کے صدر ہوگو چاوز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تہران اجلاس سامراجی طاقتوں کے لئے ایک زلزلہ ثابت ہوا ہے۔ ہوگو چاوز اپنی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہوسکے اور انہوں نے اپنی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کیا۔دریں اثناء گروپ پندرہ کا سربراہی اجلاس اوراس موقع پرسہ فریقی اعلامئے پر دستخط کے انتہائی اہم واقعے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرجناب احمدی نژاد کی کرشمائی شخصیت عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہات کا مرکز بنی رہی۔ اجلاس میں شریک مختلف ملکوں کے صدور کی رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات بھی اس بات کا باعث بنی کہ عالمی تعلقات پر حکمفرما ظالمانہ روش کے خاتمے کے لئے نئے نئے راستے اورطریقے کھل کرسامنے آئيں۔ اس دوران سہ فریقی اعلامیہ بھی عالمی ذرائع ابلاغ کی خصوصی توجہ کا مرکزبنا رہا تا ہم اس اعلامئے کو تسلیم نہ کرنے والی پہلی ریاست غاصب صہیونی ریاست تھی۔ صہیونی ریاست کی طرف سے تہران اعلامئے کی مخالفت کے اعلان کے بعد بھلا امریکی صدرباراک اوباما کہاں پیچھے رہ جاتے؟ چنانچہ اوباما نے بھی اعلان کیا کہ تہران اعلامئے سے وہ مطمئن نہيں ہيں؛ اوباما نے یہ بھی کہا کہ ترکی اور برازیل ایران کواس بات پر راضي نہ کرسکے کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے۔ اوباما نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی ہے کہ جب ان دونوں ملکوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ پرامن مقاصد کےلئے ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادہ کرنا ایران کا قانونی حق ہے۔ اوباما کے بیان سے ايسا لگتا ہے کہ جس طرح کہ امریکہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اپنی پالیسیوں کوآگے بڑھانے کے لئے دوسروں سے بھی یہی توقع کرتا ہے۔ ایران سے یہ مطالبہ کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے اقوام متحدہ کے قانون کے منافی ہے۔ کیونکہ ایران نے این پی ٹی پر دستخط کر رکھے ہيں اور قانون کے مطابق جو ملک این پی ٹی کا ممبر ہے وہ پرامن مقاصد کے لئے یورینیم افزودہ کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اوباما کے لب و لہجے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ گویا انھوں نے ہی برازیل اور ترکی کے رہنماؤں کو تہران بھیجا ہوا تھا اور انہیں "ہدایت" کی ہوئی تھی کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی روک دینے پر رضامند کریں ۔ مگر امریکی صدر کو معلوم ہونا چاہئے کہ برازیل گروپ پندرہ کا ممبر ملک ہے اور برازیل کے صدر اس گروپ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے تہران آئے تھے اور اس کے علاوہ ان کا یہ دورہ صدراحمدی نژاد کے دورہ برازیل کے جواب میں انجام پایا تھا لہذا آزاد و خود مختار ملک، برازیل کے صدر ایران کے مہمان تھے نہ کہ امریکہ کے بھیجے ہوئے نمائندے۔ اسی طرح ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوغان کواس اجلاس میں مہمان خصوصی کے طورپرشرکت کی دعوت دی گئی تھی جس طرح شام کے صدر بشار اسد اورقطرکے امیر شیخ حمد کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئي تھی چنانچہ ترکی کے وزیراعظم بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہی معزز مہمانوں میں سے ایک تھے۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی ایران کی سفارتی میدانوں میں اتنی بڑی کامیابی پر جھنجھلا کرکہا کہ اس طرح کے اعلامئے، ایران پرمزید پابندیوں کو نہیں روک سکتے اور ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کی غرض سے کوششیں جاری رہيں گی۔ لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکہ کے لئے دیر ہوچکی ہے کیونکہ صہیونی اخبار ہاآرتص لکھتا ہے کہ تہران اعلامئے نے ایران کے خلاف پابندیاں سخت کرنے سے متعلق امریکہ کی کوششوں کو تہس نہس کردیا ہے ۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار القدس العربی نے بھی لکھا ہے کہ ایران نے کھیل کے آخری سیکنڈوں میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف گول کرکے ان دونوں کو چاروں خانے چت کردیا ہے جبکہ امریکہ کے ہی میگزین فارن پالیسی نے لکھا ہے کہ اس سہ فریقی اعلامئے اور سمجھوتے سے امریکہ اور مغرب پر عالمی برادری کا اعتماد کم ہوجائے گا جبکہ ایران پر عالمی برادری کا اعتماد بڑھ جائے گا۔ مگر خود امریکی اور صہیونی ذرائع ابلاغ کے اس طرح کے اعترافات کے باوجود امریکہ اوراس کے اتحادی بدستور یہی رٹ لگائے ہوئے ہيں کہ ایران اپنے یورینیم کی افزودگی روک دے۔ شاید امریکہ اورمغرب والے یہ بھول گئے ہيں کہ جب انھوں نے ایران کے کم افزودہ یورینیم کو بیس فیصد افزودہ یورینیم کے ساتھ تبادلے کی بات کی تھی تو اس وقت یہ ممالک اس بات پر تیار تھے کہ ایران پانچ فیصد تک یورینیم افزودہ کرسکتا ہے۔ بہرحال تہران اعلامئے نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا کے آزاد و خودمختار ممالک، ایران کے ایٹمی معاملے پرمغرب کا تنازعہ حل کرنے کی جانب جو مفاہمتی اور سفارتی قدم اٹھا رہے ہيں مغرب کی تسلط پسند طاقتیں اس کے خلاف چل رہی ہيں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران اعلامئے سے ایک بات صاف ہوگئی ہے کہ اب دنیا پرصرف چند ملکوں کا ہی حکم نہیں چلے گا اور اس اعتبار سے یہ اعلامیہ بہت ہی اہم اور تاریخی نوعیت کا ہے۔ اس پوری صورت حال سے جو کم سے کم نتیجہ نکالا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ امریکی دعوؤں کے برخلاف ایران کے خلاف کسی بھی طرح کا اجماع نہيں پایا جاتا جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ اس وقت عالمی منہ زور طاقتوں کے خلاف دنیا کی اقوام ایک ہوگئي ہيں اورلوگ امریکہ کی منہ زوری کے خلاف اکٹھا ہوتے جارہے ہیں۔ آج اقوام عالم کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ زور و زبردستی والی بات کرتا ہے اوراس کے یہاں کسی بھی طرح کی کوئي منطق نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ اس سلسلے میں سی این این، اپنی ایک سروے رپورٹ میں کہتا ہے کہ ستر فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ تہران اعلامیہ ایران کے خلاف مزید کوئی پابندی عائد نہيں ہونے دے گا۔ علاقائی اور عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طرح سے تہران اعلامیہ کا مسودہ تیارکیا گیا ہے اس سے یہ بات پوری طرح ثابت ہوجاتی ہے کہ ایران کی سفارتکاری بہت ہی پختہ ہے اور ایرانی حکام نے بہت ہی ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔ جس طرح سے یہ مسودہ تیارکیا گيا ہے اس سے نہ صرف یہ کہ امریکہ کوکچھ بھی ہاتھ نہیں لگے گا بلکہ ایرانی عوام کے مفادات کے خلاف امریکی حکام کی سازشوں کو پہلے سے بھی زیادہ بے نقاب کرے گا اسی لئے اس اعلامئے پر امریکی صدرباراک اوباما کی مخالفت پر کوئی تعجب بھی نہيں ہونا چاہئے اور جس انداز سے انھوں نے اس کی مخالفت کی ہے اس سے ایک بار پھر ثابت ہوجاتا ہے کہ امریکی حکام کا اصل مقصد ایرانی عوام کی ترقی و پیشرفت روکنا ہے کیونکہ ایرانی عوام کی ترقی و پیشرفت کو روک کر دراصل امریکہ پورےعالم اسلام کی ترقی کی راہ میں حائل ہونا چاہتا ہے۔ امریکہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر ایران نے جدید علوم کے میدان میں ترقی کرلی تو وہ اپنے تجربات تمام اسلامی اور سامراج مخالف غیرمسلم ممالک کو منتقل کرسکتا ہے۔ تاہم امریکی حکام کویہ بات ابتک سمجھ لینی چاہئے تھی کہ ایرانی عوام کی ترقی وپیشرفت کی راہ میں وہ جتنی بھی رکاوٹیں کھڑی کرتے جائيں گے ملت ایران اتنی ہی زیادہ ترقی کرتی جائے گي اور 31 سال کا تجربہ کسی بھی عقل مند شخص کے لئے کافی ہوتا ہے اب اگر امریکی حکام نہ سمجھیں تو انھيں کیا نام دیا جائے؟ امریکی حکام کوحقائق سے آنکھیں بندنہيں کرلینی چاہئيں اور اگر انھوں نے اپنی یہ روش جاری رکھی تو قومیں زبردستی ان سے حقائق منوالیں گی گو کہ اس وقت کافی دیر ہوچکی ہوگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110